ہدیہ اِسلام کی نظر میں (قسط دوّم)۔
بقیہ قسط اوّل سے آگے جاری ۔۔۔۔ ہدیہ اِسلام کی نظر میں ( قسط دوّم)۔ کسی عذر کی بناء پر ہدیہ قبول نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت صعب بن جثامہ ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے آپﷺ کو نیل گائے ہدیہ بھیجا۔آپ نے واپس فرمادیا، آپ ﷺ جب اُن کے چہرے پر ناراضگی محسوس کی تو فرمایا۔انکاراََ واپس نہیں کیا، بلکہ میں حالتِ احرام میں تھا۔(بخاری)۔ نوٹ:۔ یعنی شرعی عذر کی بناء پر قبول نہ کرے تو کوئی حرج کی بات نہیں،مثلا کسی نے ناشتہ بھیجا اور وہ روزہ سے تھا، اسی طرح اگر اس چیز سے ڈاکٹر نے منع کیا ہو تکلیف کا اندیشہ ہو تو منع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کون سا ہدیہ واپس نہ کرے۔ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ تین چیزوں کا ہدیہ واپس نہیں کیا جاتا۔دودھ، تکیہ، تیل۔(ترمذی)۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تمہارے پاس کوئی شیرینی لائے تو اسے کھالو،واپس نہ کرو۔جب تمہیں کوئی عطر پیش کرے تو اسے سونگھ لو۔(واپس نہ کرو)۔(سیرۃ)۔ عطر کا ہدیہ واپس نہ کرے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آ پﷺ عطر کا ہدیہ واپس نہیں فرماتے تھے۔ (مشکوٰۃ،بخاری)۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا جس کو خوشبودار پھول(تحفہ کے طو...