Posts

Showing posts with the label اپنی شخصیت بنائیے۔/Build your personality.

🌿 جھوٹے، حسد کرنے والے اور طعنہ زنی کرنے والوں سے پریشان نہ ہوں

Image
🌿 جھوٹے، حسد کرنے والے اور طعنہ زنی کرنے  والوں سے پریشان نہ ہوں جب آدمی اپنی شخصیت اور قابلیت میں ترقی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں حاصل ہونے لگتی ہیں — تو اس سے حسد کرنے والے اور طعنہ دینے والے خود بخود بڑھنے لگتے ہیں۔   لیکن وہ ان حرکتوں سے آپ کا مقام نہیں پا سکتے۔   آپ لوگوں کی زبانوں کو روک نہیں سکتے، لیکن ان کی بری باتوں اور طعنوں سے اس طرح بچ سکتے ہیں کہ آپ خیر کے کاموں میں اور اضافہ کریں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:   “میں کسی بے وقوف کے پاس سے گزرتا ہوں جو مجھے گالیاں دیتا ہے، تو میں وہاں سے ایسے گزرتا ہوں جیسے وہ مجھے نہیں کسی اور کو کہہ رہا ہو۔” اس لیے جب کوئی بے وقوف آپ سے الجھے، بری بات کہے، طعنہ زنی کرے — تو اُسے جواب نہ دیں۔   اُسے جواب دینے سے خاموش رہ جانا بہتر ہے۔   شریف اور بلند مرتبہ لوگوں کو حقیر اور بے کار لوگ اپنے لیے چیلنج سمجھ لیتے ہیں۔ --- 📖 حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فریاد اور اللہ کا جواب حضرت موسیٰ (ع) نے اپنے رب سے فریاد کی:   “اے اللہ! لوگوں کی زبان درازی اور طعنہ زنی کو مجھ سے روک دے”...

अपनी भावनाएं नियंत्रित करें

Image
🌿 अपनी भावनाएं नियंत्रित करें — संयम ही श्रेष्ठ गुण है जब किसी व्यक्ति को बहुत अधिक खुशी मिलती है या वह अचानक किसी कठिन परिस्थिति में घिर जाता है, तो अक्सर वह अपनी भावनाओं पर नियंत्रण खो देता है।   ऐसे समय में उसके अंदर की भावनाएं तीव्रता के साथ प्रकट होती हैं — और वह खुद को संभाल नहीं पाता। लेकिन जो व्यक्ति ऐसे कठिन या उत्साहपूर्ण समय में अपने आप को नियंत्रित करता है, वह वास्तव में अपने आत्म-नियंत्रण की संपत्ति प्राप्त करता है — जो हर किसी को नहीं मिलती। --- 🌸 हर हाल में संयम — एक महान गुण मनुष्य का सबसे बड़ा गुण यही है कि वह हर परिस्थिति में संयम बनाए रखता है: - जब आसानी और खुशी मिलती है, तो वह अल्लाह का शुक्रिया अदा करता है   - जब मुसीबत आती है, तो वह धैर्य और सब्र से काम लेता है   - न खुशी में उन्मादी होता है   - न मुसीबत में घबराता है --- 📖 पैग़म्बर मुहम्मद ﷺ की हिदायत पैग़म्बर मुहम्मद ﷺ ने फरमाया:    “मुझे दो प्रकार की आवाज़ों से रोका गया है — एक वह जो नेमत मिलने पर निकलती है, और दूसरी वह जो मुसीबत के समय निकलती है।” और आपने यह ...

جذبات پر قابو اور اعتدال کی دولت

Image
 --- 🌿 جذبات پر قابو اور اعتدال کی دولت اپنے جذبات پر قابو رکھئے۔ --- انسان جب بہت بڑی خوشی حاصل کرتا ہے یا اچانک سخت مصیبت میں گھر جاتا ہے، تو اکثر اپنے جذبات پر قابو کھو دیتا ہے۔   ایسے وقت میں احساسات شدت کے ساتھ ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ لیکن جو شخص ایسے نازک لمحے میں اپنے آپ کو قابو میں رکھتا ہے، وہ اپنے نفس پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے — اور یہ ایک عظیم دولت ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ یہ انسان کی بڑی خوبی ہے کہ وہ ہر حال میں اعتدال پر قائم رہتا ہے:   - خوشی ملے تو شکر کرتا ہے   - مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے   - نہ خوشی میں بے قابو ہوتا ہے   - نہ مصیبت میں گھبراہٹ دکھاتا ہے --- 🌸 نبی کریم ﷺ کی تعلیمات رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:   مجھے دو قسم کی آوازوں سے روک دیا گیا ہے:   1. وہ جو نعمت پانے پر نکلتی ہے   2. وہ جو مصیبت کے وقت نکلتی ہے اور فرمایا:   “جو چیز چھوٹ جائے اس پر افسوس نہ کرو، اور جو نعمت خدا نے تمہیں دی ہے، اس پر اِتراؤ مت۔” یہی وہ روحانی توازن ہے جو انسان کو سکون، شکر اور صبر کی راہ پر ق...

आशीर्वाद के बारे में सोचें और दिल से धन्यवाद दें

Image
 आशीर्वाद के बारे में सोचें और दिल से धन्यवाद दें --- जब हम किसी परेशानी में होते हैं, तो अक्सर सारी दुआएँ भूल जाते हैं और केवल दर्द पर ध्यान केंद्रित करते हैं। फिर शिकायतें शुरू होती हैं — कभी अपनी ज़िन्दगी से, कभी ईश्वर से। लेकिन क्या यह पर्याप्त नहीं है कि: - आपके पास अपनी आँखों से प्रकृति का सुंदर दृश्य देखने की क्षमता है, जबकि कई लोग दृष्टिहीन हैं? - आप अपने पैरों से जीवन की यात्रा कर रहे हैं, जबकि कितने ही लोग दुर्घटनाओं में अपने पैर खो चुके हैं? - आप ताज़ा भोजन पेट भरकर खा सकते हैं, जबकि बहुत से लोग भूख से तड़पते हैं या बीमारी के कारण खाना नहीं खा सकते? - आपको रात में आरामदायक नींद मिलती है, जबकि दुख और बीमारियों ने कितनों की नींदें छीन ली हैं? - आप अपनी भाषा से दिल की बात कह सकते हैं, जबकि कई लोग बोलने की क्षमता से वंचित हैं? - आप ईश्वर की बनाई इस खूबसूरत कायनात को देख सकते हैं, जबकि कई लोग अंधे हैं? - आपका शरीर कुष्ठ रोग, कोढ़ और अन्य गंभीर बीमारियों से सुरक्षित है? - आपको बुद्धि जैसी अनमोल दौलत मिली है, जबकि कितने ही लोग मानसिक रोगों से ग्रस्त हैं और पागलखानों में अपना जी...

نعمتوں کو سوچیں اور دل سے شکر ادا کریں

Image
  نعمتوں کو سوچیں اور دل سے شکر ادا کریں --- جب آپ کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو ساری توجہ اسی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔   ہم اپنی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں اور شکایتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں — کبھی اپنی زندگی سے، کبھی خدا سے۔   کیا یہ بات کافی نہیں کہ:   - آپ اپنی آنکھوں سے قدرت کا حسین نظارہ کرتے ہیں، جبکہ کتنے ہی لوگ بینائی سے محروم ہیں؟   - آپ اپنے پیروں سے زندگی کا سفر طے کرتے ہیں، جبکہ کتنے ہی لوگ حادثات کا شکار ہو کر اپنے قدموں سے محروم ہو چکے ہیں؟   - آپ تازہ کھانا پیٹ بھر کر کھاتے ہیں، جبکہ کتنے ہی لوگ بھوک سے تڑپتے ہیں یا بیماری کی وجہ سے کھا نہیں سکتے؟   - آپ کو پرسکون نیند میسر ہے، جبکہ کتنے ہی لوگ رنج و غم یا بیماریوں کی وجہ سے رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں؟   - آپ اپنی زبان سے دل کی بات کہہ سکتے ہیں، جبکہ کتنے ہی لوگ گونگے ہیں؟   - آپ خدا کی کائنات کو دیکھ سکتے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ اندھے ہیں؟   - آپ کا جسم برص، جذام، یا کوڑھ جیسے امراض سے محفوظ ہے؟   - آپ کو عقل جیسی عظیم دولت ملی ہے،...

Udaas aur ghamgeen na ho, waqt badalne wala hai

Image
  Udaas aur ghamgeen na ho, waqt badalne wala hai.    Jis tarah raat ke baad subah hoti hai, usi tarah museebat-zadah aur tangdast logon ke liye ek nayi subah aati hai. Aane wala waqt unke liye ek nayi khushi lekar aata hai jiske baare mein unhone socha bhi nahi hota.   Kitni hi raahatein naumeedi ke baad aati hain, kitni hi mushkilaat ke baad aasaniyaan aati hain. Allah Ta’ala se madad ki umeed rakho, kyunke jo Allah se khush gumaani rakhta hai, woh kaantay-daar darakht se bhi meethe phal tod sakta hai.   Usay sabr ki taufeeq milti hai, dil aur rooh ko sukoon milta hai, gham ki kefiyat se bach jaata hai. Jaise ke Allah Ta’ala farmata hai:   “Ana ‘inda zanni ‘abdi bee”   أَنَا عِندَ ظَنِّ عَبْدِي بِي   Main apne bande ke gumaan ke mutabiq hota hoon. --- Moosa (a.s) aur Firaun ka waaqia :   Jab Moosa (a.s) ki qaum samundar ke samne aur Firaun ke lashkar ke peechhe thi, to sab dar gaye. Moosa (a.s) ne foran kaha:...

دوستی اور محبت کس سے کریں؟Who do you make friends with

Image
دوستی اور محبت کس سے کریں؟  دوست کسے کہتے ہیں۔ جس طرح معاشرے میں کئی رشتے ہوتے ہیں۔ماں باپ کا رشتہ،بھائی بہن کا رشتہ،وغیرہ۔اِسی طرح ایک اہم رشتہ دوست کا رشتہ ہوتاہے۔ کہتے ہیں حقیقی غریب وہ ہے کہ جس کا کوئی دوست نہ ہو۔ کیونکہ مال دولت سے ہر چیز حاصل تو نہیں ہوتی، لیکن سچا دوست آپ کی ہمت ہوتا ہے، آپ کو صحیح راستہ بتاتا ہے۔بُرے وقت میں کام آتا ہے۔آپ کی خامیوں پر آپ کو ٹوکتا ہے جس سے آپ کی شخصیت اور نکھرتی ہے۔وہ خیالات،جذبات،باتیں جو آپ اپنے بھائی بہن یا ماں باپ سے نہیں بانٹ سکتے ایسے وقت آپ اپنے دوست کو وہ باتیں` بتا کر اپنی خوشی اور غم میں شامل کرتے ہیں۔جس سے آپ کے دِل کو تسلی ملتی ہے۔آپ ذہنی مایوسی سے بچ سکتے ہیں۔آپ کے جذبات کو سمجھ کر آپ کادوست اُن جذبات پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے۔  دوستی اور محبت کس سے کریں؟ چونکہ انسان اکثر اُسی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے جو اُس کا ہم خیال ہو۔ذہنی سطح ایک جیسی ہوتی ہے تو ایک دوسرے کو سمجھ کر اپنے خیالات اور جذبات کو ایک دوسرے کیساتھ بانٹتے ہیں۔ چاہے اُن میں بُرے خیالات ہو یا اچھے خیالات ہو۔اور لوگ بھی ایک دوسرے کے دوستوں کو دیکھ کر کسی شخص کو پ...

اعتدال اور میانہ روی اختیار کیجئے

Image
اعتدال اور میانہ روی اختیار کیجئے       اِسلام نے ہمیشہ کسی بھی معاملہ میں لوگوں کو اعتدال کا راستہ اپنانے کا حکم دیا ہے۔چاہے ہو عبادات کا معاملہ ہو یا سخاوت اور خرچ کرنے کا معاملہ ہو،اخلاقی اعتبار سے،روحانی اعتبار سے،یا معاشرتی اعتبار سے ہو۔ غرض یہ کہ زندگی کے تمام شعبہ اورمعاملات میں اعتدال کے ساتھ اپنے معاملات کو حل کرنے کا حکم فرمایا۔قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا۔ وکذلک جعلناکم اُمّۃ وسَطاََ ۔ یعنی ہم نے تم کو ایک اُمّتِ وسط بنایا،درمیانی اُمت سے بنایا۔یہ ایک خصوصیت ہے کہ تمام اُمور ومعاملات میں اعتدال کی صفت کی خوبی کو ظاہر کیا۔ ہر حال میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ۔ حضرتِ حذیفہ سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا۔مال داری کی حالت میں بھی اعتدال اچھی چیز ہے۔ اور فقر وتنگدستی کی حالت میں اعتدال اچھی چیز ہے اور عبادت میں بھی اعتدال اچھی ہے۔ ۔۔مال ودولت میں اعتدال اور میانہ روی رکھنا ضروری ہے۔نہ ایسا ہو کہ مال ودولت میں اتنا مشغول رہے کہ خدا سے غافل ہوجائے۔اپنی آخرت کو بھول جائے۔اور نہ خرچ کرنے میں اتنااِسراف اور فضول خرچی کرے کہ بعد میں خود تنگدست ہوجائے۔اور...

بڑا سوچئے بڑا کرئیے۔

Image
بڑا سوچئے بڑا کرئیے۔ ۔۔۔ ہر انسان کے اپنے کچھ مقاصد ہوتے ہیں جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔کسی اِنسان کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے اور کوئی بڑا سوچتا ہے۔اگر کامیاب انسان بننا ہے توانسان کو اپنے مقاصدمیں بلند سوچ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ایک چھوٹی سی مثال لیں لے۔اگر ایک شخص کا ذہن ہے کہ اُسے کُرسی اُٹھا کر لیجانا ہے تو وہ آسانی کے ساتھ کرسی کو اُس کے اصلی مقام تک پہنچا دیگا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوجائیگا.اور ایک دوسرا شخص ہے  اُس کا ذہن سوچتا ہے کہ اُسے اسی طرح پچاس کرسیا ں اُٹھا کر وہی مقام تک پہنچانا ہے۔اور وہ جہد ِمسلسل کرے۔محنت کرے،تو وہ کامیاب ہوگا اگر بالفرض مان لیں کہ وہ پچاس کرسیاں اُس کے اصلی مقام تک نہ بھی پہنچائے تو کم سے کم بیس،پچیس کرسیا ں تو پہنچا ہی لیگا۔اوروہ اپنے مقصد کو پورا کرنے میں نا کام ہوگیا۔تو اب یہ بتلائے کہ ایک کرسی لیکر جانے والے کا کام جو کہ کامیاب انسان ہے وہ اچھا ہے یا وہ جو بیس پچیس کرسیا ں لیکر جانے والا جو کہ ناکام ہے،۔۔اِسی طرح انسان کا ذہن کام کرتا ہے جب آپ اپنے ذہن کو بڑے کام کا حکم دوگے تو ذہن اُس کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنے کی کوشش کریگا کچھ آئیڈیا بتا...

خوش رہنے کے بہترین اصول حصہ پنچم (۵)

Image
(5)خوش رہنے کے بہترین اصول  حصہ پنچم ۔۔۔جب بندہ اللہ کو چھوڑکر صرف لوگوں ہی سے اُمیدیں لگاتا ہے تو اللہ تعالی اُسے لوگوں کے حوالے کردیتا ہے۔اس لئے اگر چاہتے ہو کہ تکلیف دور ہو تو مخلوق سے اُمیدیں لگانا چھوڑ دو۔صرف اللہ سے ہی اُمید رکھو۔تاکہ تمہاری تکلیف دور ہو۔اور  اللہ ہی سے فریاد کرو۔ ۔۔۔جب آپ کے پاس ایسا معاملہ پیش آئے جس کے کرنے سے لوگ ناراض ہوجائے اور اللہ تعالی خوش ہوجائے۔تو فورا بلا جھجک اللہ کو راضی کرنے والا کام کرجاو،چاہے لوگ کتنے ہی ناراض ہوجائے،جب آپ ایسا کروگے تو اللہ تعالی اس بات کو اپنے ذمہ لے لیتا ہے کہ وہ لوگوں کے دِلوں کو آپ کے لئے راضی کرادے۔اور جب آپ کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کے کرنے سے لوگ خوش ہوجائے اور اللہ تعالی ناراض ہوجائے تو رُک جائیے اُس کام کو ہرگز نہ کرئیے کہ آپ لوگوں کو راضی کرنے کے لئے اللہ کو ناخوش کرے۔اگر آپ نے ایسا کیا تو اللہ تعالی ایسے بندے کو لوگوں کے حوالے کردیتا ہے یہاں تک کہ ایسے حالات آجاتے ہیں۔ کہ اللہ کو ناراض کر کے جن لوگوں کو خوش کیا تھا وہی لوگ اُس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ خوش رہنے کے بہترین اصو ل ۔۔۔اگر آپ بے چینی،بد انتظام...

خوش رہنے کے بہترین اصول حصہ چہارم(۴)

Image
خوش رہنے کے بہترین اصول  حصہ چہارم(۴) ۔ہر تنقید کو اپنے خلاف نہ سمجھو۔کیونکہ تعریف سے زیادہ ہمیں اِصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۔۔غصہ کی حالت میں کبھی فیصلہ نہ کرو۔ورنہ بعد میں ندامت اور پچھتاوا ہوگا۔ کیونکہ غصہ کی حالت میں اِنسان غوروفکر سے کام نہیں لیتا۔ ۔۔لوگوں سے عزت کی خواہش نہ کرو،جب تک تم خود لوگو ں کی عزت نہ کرو۔اپنی ناکامی پر دوسروں کو دوش نہ دو،بلکہ خود کی اِصلاح کی فکر کرو۔ ۔۔۔اِنسان کی نفسانی خواہشات کی کوئی حد نہیں،ایک خواہش پوری ہونے کے بعد دوسری خواہش جنم لیتی ہے۔اس لئے خواہشات کے پیچھے پڑوگے تو کبھی اطمینان حاصل نہ ہوگا۔معاملات ضائع ہونگے۔ذہن منتشر ہوگا۔سکون حاصل نہ ہوگا۔ ۔۔۔چیونٹی کا کھانا گھر تک نہیں پہنچتا۔شیر کی خوراک کچھار میں نہیں ملتی،پرندوں کی روزی ان کے گھونسلے میں خودبخود نہیں آتی۔انہیں غذا کے لئے جدوجہد اور محنت کرنا پڑتی ہے۔اِن ہی کی طرح محنت اور طلب سے کوئی چیز حاصل کی جاتی ہے۔ ۔۔۔نیک بخت اور خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جب وہ حاضر نہیں ہوتے تو لوگ اُن کا ذکرِخیر کرتے ہیں۔اور دِل سے دُعا دیتے ہیں،جس سے لوگ پیار کرتے ہیں۔اور بد بخت ہوتے ہیں وہ لوگ جب وہ غائب ہوتے ...

دوسروں کی نقل نہ اُتاریں۔

Image
دوسروں کی نقل نہ اُتاریں۔ دوسروں کی نقل کرکے آپ اپنی شخصیت کو گم نہ کرو۔بہت سے لوگ اس بیماری کا شکار ہیں،ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی آواز،بول چال، حرکات وسکنات،بات چیت،لباس، میں دوسرو ں کی ایسی نقل کرے کہ بالکل اُن جیسے نظر آئے۔ یہ سب چیزیں،تکبر،جلن،حسد،تکلف یا کسی سے مرعوب ہونے سے جنم لیتی ہے۔اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر آج تک کسی اِنسان کو ہر چیز میں یکساں نہیں بنایا۔لوگوں کی شکل وصورت میں اختلاف ہے۔کہیں لوگوں کے رنگ ونسل میں اختلاف ہے کہیں زبان اور اُن کے لہجوں میں اختلاف ہے۔اسی طریقے سے اخلاق اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بھی لوگ یکساں نہیں ہیں۔ انسان کی خوبیاں الگ الگ ہوتی ہیں۔۔ مزاج اور پسند بھی الگ الگ ہوتی ہے۔۔ ہر خوبی  اور ہر مزاج کی اہمیت ہوتی ہے۔۔۔ اور سب کے ملنے سے خوبیوں کا سماج بنتا ہے۔۔ وہی سماج اچھا لگتا ہے، اور وہی کام کا ہوتا ہے۔۔۔ پھول بھی تو الگ الگ ہوتے ہیں۔۔ اور ان سب کے ملنے سے چمن بنتا ہے۔۔ پھر وہی چمن زار ہوتا ہے، اور دلوں کا بہار بنتا ہے۔۔۔  آپ کے پاس جو چیز اللہ نے قدرتی طور پر دی ہے وہ دوسروں میں نہیں ہے اور نہ کوئی اُس نعمت کو آپ سے چھی...

خوش رہنے کے بہترین اصول حصہ سوم(3)

Image
(3)خوش رہنے کے بہترین اصول  حصہ سوم ۔۔اگر لوگ تمہیں گالی دے،پیٹھ پیچھے بُرائی کرے،تو رنجیدہ اور افسردہ نہ ہو۔لوگ تو اللہ تعالی کی شان میں بھی گستاخیاں کرتے ہیں۔جس نے  اُنہیں پیدا کیا اُسی کا انکار کرتے ہیں۔تمام کی ضروریات کو وہی پورا کرتا ہے،لوگ کسی اور کے گُن گاتے ہیں۔ ۔۔۔جہان بھر کی فکر کرنا چھوڑدو،دُنیا کے حالات کا واویلا کرنا چھوڑ دو۔کس کو پڑی ہیکہ وقتِ ضرورت آپکی بھی خبر گیری کرے۔کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ آپکی موت کو بھی بھلا دینگے۔ ۔۔۔آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو چاہے تو لوگوں کے پاس جوچیزیں ہے اُس سے بے رغبتی اختیار کرو۔لوگ آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گے۔اگر آپ چاہتے ہو کہ اللہ کی نظر میں محبوب بن جاو۔تو دُنیا کی محبت دِل سے نکال دو۔دُنیا کو اہمیت نہ دو۔ تم اللہ کی محبت کو پا لوگے۔ ANMOL QOUTES ۔۔۔جو کنجوس ہوتا ہے اُسکے پاس مال ہونے کے باوجود تنگی کی زندگی گزارتا ہے اور مالداری میں مرتاہے۔لوگ اُس سے نفرت کرتے ہیں۔اپنو ں میں اُس کا کوئی وقار نہیں رہتا۔اُس کی عزت نہیں کی جاتی۔اچھی شہرت سے محروم ہوتا ہے۔ اور اللہ کی رحمت سے دور ہوتا ہے۔اِس کے برعکس جو انسان سخی ہوتاہے وہ ال...