دوستی اور محبت کس سے کریں؟Who do you make friends with

دوستی اور محبت کس سے کریں؟


 دوست کسے کہتے ہیں۔

جس طرح معاشرے میں کئی رشتے ہوتے ہیں۔ماں باپ کا رشتہ،بھائی بہن کا رشتہ،وغیرہ۔اِسی طرح ایک اہم رشتہ دوست کا رشتہ ہوتاہے۔ کہتے ہیں حقیقی غریب وہ ہے کہ جس کا کوئی دوست نہ ہو۔ کیونکہ مال دولت سے ہر چیز حاصل تو نہیں ہوتی، لیکن سچا دوست آپ کی ہمت ہوتا ہے، آپ کو صحیح راستہ بتاتا ہے۔بُرے وقت میں کام آتا ہے۔آپ کی خامیوں پر آپ کو ٹوکتا ہے جس سے آپ کی شخصیت اور نکھرتی ہے۔وہ خیالات،جذبات،باتیں جو آپ اپنے بھائی بہن یا ماں باپ سے نہیں بانٹ سکتے ایسے وقت آپ اپنے دوست کو وہ باتیں` بتا کر اپنی خوشی اور غم میں شامل کرتے ہیں۔جس سے آپ کے دِل کو تسلی ملتی ہے۔آپ ذہنی مایوسی سے بچ سکتے ہیں۔آپ کے جذبات کو سمجھ کر آپ کادوست اُن جذبات پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے۔ 

دوستی اور محبت کس سے کریں؟

چونکہ انسان اکثر اُسی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے جو اُس کا ہم خیال ہو۔ذہنی سطح ایک جیسی ہوتی ہے تو ایک دوسرے کو سمجھ کر اپنے خیالات اور جذبات کو ایک دوسرے کیساتھ بانٹتے ہیں۔ چاہے اُن میں بُرے خیالات ہو یا اچھے خیالات ہو۔اور لوگ بھی ایک دوسرے کے دوستوں کو دیکھ کر کسی شخص کو پہچاننے میں آسانی ہوتی ہے۔اور ہمیں بھی اگر کسی کو جاننا ہو کہ یہ بندہ کیسا ہوگا۔تو اُس کی مصاحبت اور دوستوں کے معیار کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ یہ بندہ کس قسم کا ہے۔ اِس لئے ہمیشہ دوست کے انتخاب میں سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا چاہیئے۔ کہ وہ کِس سے دوستی کررہا ہے۔اوربہت سی مرتبہ کسی کے ساتھ ہمیشہ رہنے سے دھیرے دھیرے اُس کے اثرات بھی ساتھ رہنے والے پر ہوتے ہیں۔

اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا۔۔المرءُ علی دینِ خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل۔آدمی اپنے دوست کے طریقے پر ہوتا ہے تو اُسے یہ ضرور دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس کے ساتھ دوستی کررہا ہے۔

حدیث کا مفہوم ہے۔ایک مرتبہ نبی کریمﷺ سے کسی نے پوچھا کہ یارسول اللہ سب سے زیادہ دوستی (مصاحبت)کا حق کس کا ہے۔کس کے ساتھ رہنے کے مستحق ہے کہ جس کہ ساتھ رہا جائے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ وہ شخص کہ جس کو دیکھ کر اللہ یاد آجائے۔جب بات کی جائے تو تمہارے علم میں اِضافہ کرے۔اوراُس کے کردار سے تمہاری آخرت کی یاد تازہ ہوجائے۔

دوستی اور محبت کس سے کریں؟

ٓاچھے دوست اور ہم نشین کی فضیلت:۔

حضرتِ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہیکہ آپ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالی قیامت کے دن فرمائیں گے۔ خدا کے واسطے آج محبت کرنے والے کہاں ہیں۔ ان کو میں اپنے سایہ میں رکھوں گا جس دن کوئی سایہ نہ ہوگا۔(ترغیب)۔

حضرتِ ابوامامہ ؓ سے مروی ہیکہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے واسطے محبت کی اور اللہ کے واسطے قطع تعلق کیا،اللہ ہی کے واسطے دیا،اللہ کے واسطے روکا۔اس نے ایمان کامل کرلیا۔

حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔آدمی اس کے ساتھ شمار کیا جائے گا جس کے ساتھ محبت کرے گا۔

حضرتِ ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے آپﷺ نے فرمایا۔مومن کے علاوہ کسی کی مصاحبت اِختیار نہ کرو۔اور تمہارا کھانا متقی کے علاوہ اور کوئی دوسرا نہ کھائے۔

.کس سے دوستی اور تعلق نہیں رکھنا چاہیئے

۔۔۔کبھی کبھی کوئی بندہ دوست کو بنانے میں دھوکہ کھا جاتا ہے اور کچھ مہینوں کے بعد اُس سے الگ ہوجاتا ہے کیونکہ تب تک وہ جان جاتا ہے کہ دونوں میں میل جول نہیں ہوسکتایا کسی معاملہ میں دھوکہ ہوجاتا ہے،لیکن تب تک اُس کے اوقات ضائع ہوجاتے ہیں اور لوگ اُسے بھی اُسی نظریہ سے دیکھتے ہیں جیسا کہ اُس کا 

دوست ہوتا ہے۔اِس لئے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔


بد کی صحبت میں بد بیٹھو،بد کا ہے انجام بُرا

بد نہ بنے تو بد کہلائے،بد اچھا بدنام بُرا۔


یعنی بُرے لوگوں میں شامل ہونے سے لوگ اُسے بھی بُرا سمجھتے ہیں چاہے وہ ویسا بُرا نہ ہو۔لیکن تب تک بدنامی کا داغ اُس کے کِردار پر لگ جاتا ہے۔اور جب کوئی اِنسان بد نام ہوجائے چاہے وہ ویسا بُرانہ ہو تب بھی لوگ اُسے بُرا ہی سمجھتے ہیں۔ یہ تو دُنیا کا معاملہ ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی جن لوگوں ں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا تھا جو اُس کی گمراہی کا سبب بنے تھے جن دوستوں نے اُسے نیک کاموں سے روکاوہ شخص افسوس کریگااور وہ شخص کل قیامت کے روز کہے گا۔(سورہ فرقان) یا ویلتیٰ لیتنی لم اتخذ فلاناََ خلیلا۔لقد اضلنی عن الذکر بعد اذجاء نی۔ہائے افسوس ہائے میری کم بختی، کاش کے میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔میرے پاس نصیحت آنے کے باوجود میں اس کے بہکاوے میں آگیا، اور میں گمراہ ہوگیا۔

اچھے اور بُرے دوست اور ہم نشین کی مثال اللہ کے نبی ﷺ نے ایک مثال کے ذریعے دی۔فرمایا کہ اچھے اور بُرے ہم نشین کی مثال مشک اور بھٹی کی طرح ہے۔اچھے دوست کی مثال اُس مشک بیچنے والے کیطرح ہے کہ جیسے آپ مشک یا تو خریدوگے اور اگر نہ بھی خریدو تو کم سے کم اُس کی خوشبو تو تم کو پہنچے گی۔بُرے دوست کی مثال اُس بھٹی والے کی طرح ہے کہ تمہارے کپڑوں کو جلا دیگی۔یا کم سے کم تمہارے کپڑے ہاتھوں کو کالا ضرور کردے گی۔اُس کا کچھ نہ کچھ اثر تم کو پہنچ کر رہیگا۔

 ایسے دوستوں سے ہمیشہ فاصلہ بنائے رکھے جو آپ کو غلط مشورہ دے۔غلط راستے پر لے جائے،جو آپ کو مایوس کرے۔آپ کی ہمت توڑدے۔ جس کی نظر ہمیشہ منفی پہلو پر ہو اور ہمیشہ منفی سوچ رکھتا ہو،ورنہ وہ آپ کی آخرت کے ساتھ ساتھ آپکی دُنیا بھی خراب کردیگا۔ 

ایک سچے دوست کی ہمیشہ تلاش رکھنا چاہئے۔اور دوست بنانے سے اہم دوستی کو برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے،کبھی کبھی ایسے مواقع آجاتے ہیں جو آپس میں دوری کا سبب بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ہر کوئی اِنسان ہے اورغلطیوں کو پتلہ ہے۔  ایسے موقع پر دوستی میں دراڑ آنے سے خود بھی بچے ورنہ پھر وہ بات نہیں ہوتی جو پہلے ہوتی ہے۔معافی اور درگذر،بات چیت سے بھی کئی ایک مسئلے حل ہوجاتے ہیں۔


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

کچھ یادوں کی ڈائری سے والد کی

Don't Worry About Liars And Jealous People/ جھوٹے لوگوں اور حسد کرنے والوں،پیٹھ پیچھے بُرائی کرنے والوں سے پریشان نہ ہو۔