Posts

Showing posts with the label اسلامی سرگرمیاں/islamic activities

ماں کے لئے ایک بہترین دُعا

Image
ماں کے لئے ایک بہترین دُعا    ما ں وہ ہستی ہے جو بنا ء کسی مطلب کے اپنی اولاد سے بے انتہاء محبت کرتی  ہے۔ہمیں چاہئیے کہ ہم کم سے کم اپنی والدہ کے لئے دُعا ہمیشہ کرتے رہیں۔والدہ کے لئے ایک بہترین دُعا ہے جسے آپ  ہمیشہ پڑھینگے تو یہ آپ کے لئے بھی سعادت اور نیک بختی کی علامت ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللّٰھُم ارْحَمْ اُمِّی کَمَا رَحِمَتْنِیْ صَغِیْرا۔اللّٰھُمَّ اَسْعِدْ اُمِّیْ کَما اَسْعَدَتْنِیْ کَبِیْرا۔اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ اُمِّیْ اَعْمَالَھَا صَغِیرَھا وَ کَبِیْرَھا۔اللّھُمَّ اجْعَلْ اُمِّیْ مِنَ الَّذِیْنَ لَا خَوْف عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْن۔وَاَکْرِمْھا بِالْفِرْدَوْسِ الْاَعْلٰی مِنَ الْجَنَّۃِ یَا کَرِیْم۔ ترجمہ۔  اے اللہ میری والدہ پر رحم فرما،جیسا کہ بچپن میں والدہ نے میرے ساتھ رحم کا معاملہ فرمایا۔الے اللہ میری والدہ کے ساتھ نیک بختی اور سعادت کا معاملہ فرما۔جیسا کہ والدہ نے نیک بختی کیساتھ مجھے پروان چڑھایا۔اے اللہ میری والدہ کے تمام چھوٹے اور بڑے نیک اعمال کو قبول فرما۔اے اللہ میری والدہ کو اُن لوگوں میں  شامل فرماکہ جو لوگ قیامت...

ہدیہ اِسلام کی نظر میں (قسط دوّم)۔

Image
بقیہ قسط اوّل سے آگے جاری ۔۔۔۔  ہدیہ اِسلام کی نظر میں ( قسط دوّم)۔ کسی عذر کی بناء پر ہدیہ قبول نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت صعب بن جثامہ ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے آپﷺ  کو نیل گائے ہدیہ بھیجا۔آپ نے واپس فرمادیا، آپ ﷺ جب اُن کے چہرے پر ناراضگی محسوس کی تو فرمایا۔انکاراََ واپس نہیں کیا، بلکہ میں حالتِ احرام میں تھا۔(بخاری)۔ نوٹ:۔ یعنی شرعی عذر کی بناء پر قبول نہ کرے تو کوئی حرج کی بات نہیں،مثلا کسی نے ناشتہ بھیجا اور وہ روزہ سے تھا، اسی طرح اگر اس چیز سے ڈاکٹر نے منع کیا ہو تکلیف کا اندیشہ ہو تو منع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کون سا ہدیہ واپس نہ کرے۔ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ تین چیزوں کا ہدیہ واپس نہیں کیا جاتا۔دودھ، تکیہ، تیل۔(ترمذی)۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تمہارے پاس کوئی شیرینی لائے تو اسے کھالو،واپس نہ کرو۔جب تمہیں کوئی عطر پیش کرے تو اسے سونگھ لو۔(واپس نہ کرو)۔(سیرۃ)۔ عطر کا ہدیہ واپس نہ کرے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آ پﷺ عطر کا ہدیہ واپس نہیں فرماتے تھے۔ (مشکوٰۃ،بخاری)۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا جس کو خوشبودار پھول(تحفہ کے طو...

(ہدیہ اِسلام کی نظر میں (قسط اوّل)

Image
(ہدیہ اِسلام کی نظر میں (قسط اوّل) ہدیہ کے معنی، تحفہ،کے ہیں۔تحفہ معمولی ہو یا قیمتی اِس کی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ ہدیہ اظہارِ تعلق،محبت،اور الفت کے لئے دیا جاتا ہے۔ہدیہ امیر اور غریب دونوں ایک دوسرے کو دے سکتے ہیں۔ اللہ تعالی نے تحفوں کے سلسلے میں ایک جگہ فرمایا۔ وَاِذا حُیّیتُم بِتَحیِّۃِِ فحیوا بِاَحسَنَ منھا اَو رُدُّوھا۔ اور اگر تمہیں کوئی خیر سگالی کا تحفہ پیش کیا جائے تو اس سے بہتر پیش کیا کرو یا کم از کم ویسا ہی لوٹا دو۔ ہدیہ کا لفظ اللہ تعالی نے نے قرآ ن مجید میں ملکہ سبا کے لئے سورہ نمل آیت نمبر پچّیس میں استعمال فرمایا۔جو ملکہ سبا نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں بھجوایا تھا، وہ جانتی تھی کہ تحفوں کا لوگوں پر اچھا اثر ہوتاہے۔وہ سمجھتی تھی کہ اس کے ذریعے سلیمان علیہ السلام کا دل جیتا جا سکتا ہے۔ ہدیہ اور صدقہ میں فرق: ۔صدقہ،، کسی محتاج کو اللہ تعالی سے تقرب،اور ثواب حاصل کرنے اور،مصیبت کو زائل کرنے کی نیت سے دیا جاتا ہے۔صدقہ میں دو چیزیں ہیں۔صدقات واجبہ اور صدقاتِ نافلہ۔ صدقہ واجبہ(زکوٰۃ، صدقہ فطرہ)وغیرہ مستحق غریب کو دینا ضروری ہے۔جبکہ نفلی صدقات،غریب اور امیر دونوں کو د...

مشورہ کی اہمیت/The importance of advice

Image
 مشورہ کی اہمیت۔ اللہ تعالی نے جس طرح تمام لوگوں کی صورتوں رنگوں اور لسانیات،میں فرق پیدا کیا،ٹھیک اِسی طرح لوگوں کی ذہنی صلاحیت،سوچ اور سمجھ اور قوت ِ فیصلہ کی صلاحیت بھی اللہ تعالی نے مختلف رکھی۔اور اِسی لئے جب انسان کو جب کوئی اہم فیصلہ لینا ہو تو مختلف سوچ اور سمجھ کے مجموعہ سے انسان مشورہ لیکر قدم آگے بڑھاتا ہے تاکہ وہ کامیابی کو حاصل کرلے۔یہ چیز اتنی اہم ہیکہ خود نبی کریم ﷺ کو قرآن مجید میں اِس بات کیطرف راہنمائی کی گئی کہ مختلف اُمور اور معاملات میں اپنے قریبی اصحاب سے مشورہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔جیسا کہ قرآ ن میں ارشاد فرمایا گیا۔ وشاوِرھُم فِی الامر فاذا عَزَمتَ فتوکل علی اللہ۔ان اللہ یحبّ المتوکّلِین۔ یعنی اپنے معاملات اور اُمور میں ان سے مشورہ لیا کرو۔ اور جب فیصلہ کرو تو خدا پر بھروسہ کرو۔ بیشک اللہ تعالی بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔  Add caption سورہ شوری میں مومنین کی صفت بیان کی گئی۔ واَمرُھُم شوریٰ بینھم ۔اُن کے معاملات آپس میں مشورہ سے طئے ہوتے ہیں۔ مشورہ کا حکم. حضرت ضحاک ؒ سے نقل کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ مشورہ کیا کریں۔ چ...

پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک/Kindness to the neighbor

Image
ٓ     پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک  آج کل کا دور جیسے نفسا نفسی کا دور ہے۔ہر شخص گویا اپنی دُنیا میں مگن ہے۔ لیکن چاہے اِنسان خود کتنا ہی اپنی مصروفیات میں ہوں۔اُسے اپنے پڑوسی سے ضرور کچھ نہ کچھ,کبھی نہ کبھی سابقہ پڑتا ہے۔  ٹھیک اِسلام نے جیسے معاشرت میں خود اور اپنے گھر والوں اور رشتے داروں کے حقوق بیان فرمائے ہیں اُسکے بعد پڑوسیوں کے بھی حقوق بھی بیان کئے ہیں۔ بہت سے لوگ اُن حقوق کویا تو  نہیں جانتے ہیں  اور جو لوگ اُن حقوق کو جانتے ہیں افسوس کے اُس پر عمل نہیں کرتے۔کیونکہ ہمارے معاشرے میں  پڑوسیوں کونظر انداز کردینا,جیسی چیز عام ہوگئی ہے تو اس چیز کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ لیکن پڑوسیوں کو نظر انداز کردینا بھی کتنا ہماری دُنیا اور آخرت تباہ کرسکتی ہے ہم اِسے اِسلامی نقطۂ نظریہ سے دیکھیں گے۔ پڑوسی کسے کہتے ہیں ؟ سب سے پہلے یہ کہ ہمارے پڑوسی میں سب سے مقدم کون ہیں۔(۱) پہلے تو یہ کہ وہ ہمارے رشتہ دار ہو اور پڑوسی ہو تو اِن کا حق سب سے پہلے ہے(۲) اُس کے بعد جو ہمارے گھر کے آس پاس۔پھر دُکان یا فیکٹری  کے آ س پاس ہو (۳) تیسرے نمبر پر وہ لوگ جو جن کے سات...

رشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک /صلہ رحمی

Image
رشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک   اسلام معاشرتی اعتبار سے ہر مسلمان کو اِس بات کا حکم دیتا ہیکہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی،اچھا سلوک، احسان اور بہتر برتاو کریں۔یہاں تک فرمایا کہ اگر ہمارے معاشرے میں رشتہ دار مفلس،محتاج ہو کمانے کی طاقت نہ رکھتے ہوں،مدد کے محتاج ہوتو جہاں تک ہوسکے اُن کی مالی مدد بھی کریں۔سورہ نحل میں اللہ تعالی نے اِرشاد فرمایا۔انّ اللہ یامر با لعدل والاحسان وایتا ء ذی القربیٰ وینھیٰ عنِ الفَحشاءِ ولمنکروالبغی،یعظکم لعلکم تذکّرون۔یعنی اللہ تعالی ہر ایک کے ساتھ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ اور قرابت داروں کو دیتے رہنا،اور بے حیائی اور بُرے کاموں اور سرکشی سے روکتا ہے۔ اللہ تعالی تم کو نصیحت کرتا ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ صلہ رحمی کیا ہے؟رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک۔ صلہ رحمی یہ ہیکہ رشتوں کو جوڑے رکھے رشتہ داروں اور قریبی اعزہ کے ساتھ نیکی کا برتاو اور حسنِ سلوک کرے اُن کے ساتھ بہتر تعلقات بنائے رکھے اُن کی ہمدردی اور خیر خواہی کے جذات ہمارے اندر ہوں۔اور اصل صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ اُن کے برتاو کے طرح ہی ہم بھی برتاو کریں۔اُنھوں نے تحفہ بھ...