Posts

Showing posts with the label دیگر مضامین/Other Articles

NRC: Ek Khofnaak Tayari aur Hamari Ghaflat

Image
  NRC: Ek Khofnaak Tayari aur Hamari Ghaflat Hindustan ke mojooda haalaat mein agar kisi cheez ne Millat-e-Islamia Hind ko sabse zyada gher rakha hai to woh NRC ke naam par hone wali woh saazish hai jiska maqsad Musalmanon ko be-waqat, be-watan aur mehkoom banana hai. Ye sirf ek intizami amal nahi balki ek munazzam siyasi aur samaji mansuba hai.   (Hawala 1: Bharati Aaeen ke Article 14 aur 21 ke mutabiq NRC aur CAA bunyadi huqooq ki khilaf warzi karte hain.) --- Detention Centre: Aane wale Toofan ka Paish Khema Markazi Wazarat-e-Dakhla ne tamam riyasaton ko hidaayat di hai ke apne apne ilaqon mein Detention Centres tameer karein. Ye imaratein sirf eent aur pathar ki nahi balki ek daraawne mustaqbil ki alamat hain. Sawal ye hai ke ye khaali qaidkhane kiske liye tayar kiye ja rahe hain?   (Hawala 3: Wazarat-e-Dakhla ne tamam riyasaton ko detention centres banane ka hukm diya, kuch pehle hi Delhi, Karnataka aur Maharashtra mein qaim hain.) -- Assam ka Manzarnama As...

NRC: A Frightening Preparation and Our Neglect

Image
NRC: A Frightening Preparation and Our Neglect In the current situation of India, the greatest threat surrounding the Muslim community is the NRC—a scheme designed not merely as an administrative process but as a political and social project aimed at rendering Muslims powerless, stateless, and subjugated.   (Reference 1: According to Articles 14 and 21 of the Indian Constitution, NRC and CAA violate fundamental rights.) --- Detention Centers: Harbingers of the Coming Storm The Ministry of Home Affairs has instructed all states to construct detention centers. These are not just buildings of brick and stone but symbols of a terrifying future. The question is: for whom are these empty prisons being prepared?   (Reference 3: The Ministry of Home Affairs ordered all states to build detention centers, some already operational in Delhi, Karnataka, and Maharashtra.) --- The Assam Scenario The case of Assam is still fresh, where after NRC, millions of Muslims were declared st...

این آر سی: ایک خوفناک تیاری اور ہماری غفلت

Image
 این آر سی: ایک خوفناک تیاری اور ہماری غفلت ہندوستان کے موجودہ حالات میں اگر کسی چیز نے ملتِ اسلامیہ ہند کو سب سے زیادہ گھیر رکھا ہے. تو وہ این آر سی (NRC) کے نام پر ہونے والی وہ سازش ہے جس کی بنیاد دراصل مسلمانوں کو بے وقعت، بے وطن اور محکوم بنانے پر رکھی گئی ہے۔ یہ صرف ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی و سماجی منصوبہ ہے۔   (حوالہ 1: بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے مطابق این آر سی اور سی اے اے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔) --- ڈیٹینشن سینٹر: آنے والے طوفان کا پیش خیمہ مرکزی وزارتِ داخلہ نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں ڈیٹینشن سینٹر تعمیر کریں۔ یہ عمارتیں صرف اینٹ اور پتھر کی نہیں بلکہ ایک ڈراؤنے مستقبل کی علامت ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ خالی قیدخانے کس کے لیے تیار کیے جارہے ہیں؟   (حوالہ 3: وزارتِ داخلہ نے تمام ریاستوں کو ڈیٹینشن سینٹر بنانے کا حکم دیا، کچھ پہلے ہی دہلی، کرناٹک اور مہاراشٹر میں قائم ہیں۔) --- آسام کا منظرنامہ آسام کا واقعہ ابھی کل ہی کی بات ہے، جہاں این آر سی کے بعد لاکھوں مسلمانوں کو بے وطن قرار دے کر خیموں م...

کچھ یادوں کی ڈائری سے والد کی

Image
کچھ یادوں کی ڈائری سے والد کی   والد صاحب کے بچپن کادورجس درد بھرے ماحول میں گزرا،دعا ہیکہ کسی کا بچپن اُسکی معصومیت نہ چھین لے،آپ بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے۔پولس ایکشن جیسے حالات میں آپ کو جہاں باہری حالات سے تحفظ کو بھی خطرہ تھا،زمینداری زیادہ ہونے کی وجہ سے خود اپنوں کی سازشوں کا ڈر بھی تھا۔ایسے حالات میں تب آپ کی خالہ نے اپنے بچے کی طرح پرورش کی۔ ٓٓآپ اپنی دن بھر کی کارگزاری اورمعمولات ہمیشہ ڈائری میں لکھا کرتے تھے۔اصول اور وقت کے حد درجہ پابند تھے۔ عموماً آج ہمارے سماج میں گھر کا کوئی فرد مسجد جائے۔اس دوران کوئی جان پہچان کے لوگ آکر پوچھے کہ کہاں ہیں اور کب آئیں گے۔تو جواب دیا جاتا ہے مسجد گئے ہیں اور بس ابھی پانچ دس منٹ میں آئینگے۔یعنی یقینی طور پرجلد آنے والے ہیں۔ اور اگر کہیں بازار یا دوسری جگہ جائے اور آنے کے تعلق سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں بازار یا کسی جگہ باہر گئے ہیں اور پتہ نہیں کب تک آئینگے۔اِس کے بر عکس والد صاحب کے معمولات سے ہم آگا ہ تھے جب کوئی صاحب آپ کی غیر موجودگی میں آتے اور آپ مسجد گئے ہوں تو آپ کے آنے کا یقینی وقت نہیں بتا سکتے کہ کب تک آسکتے ہیں کیونکہ نم...

۔اللہ پر مکمل بھروسہ کا ایک انمول واقعہ

Image
۔اللہ پر مکمل بھروسہ کا ایک انمول  واقعہ   حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے میں اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا تھا۔ وہ پچیس سال کا خوبصورت نوجوان قتل کے مقدمے میں دو دن پہلے ہی یہاں لایا گیا تھا جہاں سے چند دن بعد عدالتی کاروائی کے بعد اسے جیل منتقل کرناتھا۔ اس کے خلاف کیس کافی مضبوط تھا اس لیے میرا خیال تھا کہ ایک دو پیشیوں کے بعد ہی اسے موت کی سزا جلد ہی سنا دی جائے گی۔ میں ایک آرمی  والا ہوں، اور پہلے دن سے ہی میرا رویہ اور لہجہ اس کے ساتھ کافی سخت تھا۔ لیکن اس کے لبوں پر ہمیشہ ایک دل چھو لینے والی مسکراہٹ ہوتی تھی اور ہمیشہ وہ مجھے بڑا سمجھتے ہوئے ادب سے اور نرم لہجے میں بات کیا کرتا تھا۔اور مجھ جیسا سخت انسان بھی دو دن میں ہی اس کے اچھے اخلاق کا گرویدہ ہو گیا تھا۔ اب وہ سلام پھیرنیکے بعداللہ سے دعا مانگ رہا تھا۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ اس طرح دعا مانگ رہا تھا کہ  جیسے وہ جس سے دعامانگ رہا ہے وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھا ہو۔ دعا کے بعد اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس کے لبوں پر پھر وہی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ وہ اٹھ کر میرے پاس آیا اور ہمیشہ کی طرح میرا حال احوال پوچھا۔ آج خلاف ...

۔!!۔ا پنے بچوں کو سچ بولنے کی تربیت دیں۔!!۔

Image
ََ ۔!!۔ا پنے بچوں کو سچ بولنے کی  تربیت دیں۔!!۔ سچائی کسے کہتے ہیں۔ سچائی کے معنی عام طور پر صرف زبان سے سچ بولنے کے آتے ہیں۔ مگر اِسلام کی نظر میں سچائی کے معنی بہت وسیع ہے۔سچائی یہ ہے کہ انسان زبان کے ساتھ اپنے دل اور اپنے عمل میں مطابقت پیدا کرے۔سچائی کی سب سے بڑی صفت یہ ہیکہ انسان کی زبان کا حرف سچ ہونے کے ساتھ ساتھ، اُسکے دِل کے اِرادہ اور اُسکے عمل کی حرکات سے صداقت ظاہر ہوجائے۔قرآن میں ایسے ہی لوگوں کو صدیق کہا گیا ہے۔جو لوگ زبان سے جو کچھ کہتے ہیں اُسے دِل سے مانتے ہیں اور اُنکے عمل سے بھی اسکی تصدیق ہوتی ہے۔ایسے لوگ اپنی زبان اور اپنے معاملات میں ہمیشہ سچے ہوتے ہیں۔اور ایسے لوگوں کی قرآن مجید میں تعریف بیان کی گئی ہے۔اور یہاں تک فرمایا گیا کہ ایسے لوگو ں کی صحبت اختیا ر کی جائی۔وکونوا مع الصادقین۔ یعنی سچوں کے ساتھ رہو۔ سچائی میں تین اہم چیزیں ہیں (!)زبان کی سچائی۔ (۲) دِل کی سچائی۔(۳) عمل  کی  سچائی۔ (۱)  زبان کی سچائی۔  یعنی زبان سے جب    بھی بولا جائے۔تو سچ بولے۔ چاہے وہ ماضی کے تعلق سے کہے یا مستقبل کے تعلق سے۔یعنی کسی سے کوئی وعدہ کرلے یا...