این آر سی: ایک خوفناک تیاری اور ہماری غفلت

 این آر سی: ایک خوفناک تیاری اور ہماری غفلت

NRC

ہندوستان کے موجودہ حالات میں اگر کسی چیز نے ملتِ اسلامیہ ہند کو سب سے زیادہ گھیر رکھا ہے. تو وہ این آر سی (NRC) کے نام پر ہونے والی وہ سازش ہے جس کی بنیاد دراصل مسلمانوں کو بے وقعت، بے وطن اور محکوم بنانے پر رکھی گئی ہے۔ یہ صرف ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی و سماجی منصوبہ ہے۔  

(حوالہ 1: بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے مطابق این آر سی اور سی اے اے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔)

---

ڈیٹینشن سینٹر: آنے والے طوفان کا پیش خیمہ

مرکزی وزارتِ داخلہ نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں ڈیٹینشن سینٹر تعمیر کریں۔ یہ عمارتیں صرف اینٹ اور پتھر کی نہیں بلکہ ایک ڈراؤنے مستقبل کی علامت ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ خالی قیدخانے کس کے لیے تیار کیے جارہے ہیں؟  

(حوالہ 3: وزارتِ داخلہ نے تمام ریاستوں کو ڈیٹینشن سینٹر بنانے کا حکم دیا، کچھ پہلے ہی دہلی، کرناٹک اور مہاراشٹر میں قائم ہیں۔)

---

آسام کا منظرنامہ

آسام کا واقعہ ابھی کل ہی کی بات ہے، جہاں این آر سی کے بعد لاکھوں مسلمانوں کو بے وطن قرار دے کر خیموں میں دھکیل دیا گیا۔  

(حوالہ 2: 2019 میں این آر سی کے بعد تقریباً 19 لاکھ افراد شہریت سے محروم ہوئے، جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔)

---

مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی

ہندوستان کی جمہوری سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اٹھارہ سے بیس فیصد مسلم آبادی کے باوجود مسلمانوں کی کوئی مضبوط اور مؤثر آواز ایوانِ اقتدار میں سنائی نہیں دیتی۔ بڑی پارٹیاں ہمیں محض ووٹ بینک سمجھتی ہیں۔  

(حوالہ 4: ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انڈیا نے رپورٹ کیا کہ این آر سی/سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔)

---

غفلت کا کڑوا پھل

آج شہریت کا دارومدار کاغذی ثبوتوں پر ہے۔ زمین کے کاغذ، آبائی ریکارڈ، تعلیمی سرٹیفکیٹ—جن کے پاس یہ سب نہیں، وہ براہِ راست خطرے کی زد میں ہیں۔  

(حوالہ 5: حکومتِ ہند کے این آر سی سوال و جواب کے مطابق شہریت کا انحصار اب مکمل طور پر دستاویزات پر ہے۔)

---

بیداری اور عملی اقدامات

1. قانونی تیاری: اپنی تمام دستاویزات کو درست، محفوظ اور اپڈیٹ رکھیں۔  

2. سیاسی دباؤ: ایسی قیادت پیدا کریں جو عوامی مسائل کو ایوان تک لے جانے کی ہمت رکھتی ہو۔  

3. اتحاد اور یکجہتی: یہ وقت مسلکی و جماعتی اختلافات کا نہیں بلکہ ایک ملت کی طرح متحد ہونے کا ہے۔  

4. علماء و دانشوران کی رہنمائی: مساجد و مدارس کو بیداری کے مراکز بنانا ہوگا۔  

---

آخری بات

آج جو خالی ڈیٹینشن سینٹر تعمیر ہورہے ہیں، کل وہ مسلمانوں کے لیے زنداں اور عقوبت خانے بن سکتے ہیں۔ وقت بہت کم ہے اور سازش بہت بڑی۔ اگر ہم نے اس موقع پر کوتاہی کی تو تاریخ ہماری پیشانی پر غفلت، بے حسی اور بزدلی کی مہر ثبت کرے گی۔

---

Comments

Popular posts from this blog

کچھ یادوں کی ڈائری سے والد کی

دوستی اور محبت کس سے کریں؟Who do you make friends with

Don't Worry About Liars And Jealous People/ جھوٹے لوگوں اور حسد کرنے والوں،پیٹھ پیچھے بُرائی کرنے والوں سے پریشان نہ ہو۔