کچھ یادوں کی ڈائری سے والد کی

کچھ یادوں کی ڈائری سے والد کی 

والد صاحب کے بچپن کادورجس درد بھرے ماحول میں گزرا،دعا ہیکہ کسی کا بچپن اُسکی معصومیت نہ چھین لے،آپ بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے۔پولس ایکشن جیسے حالات میں آپ کو جہاں باہری حالات سے تحفظ کو بھی خطرہ تھا،زمینداری زیادہ ہونے کی وجہ سے خود اپنوں کی سازشوں کا ڈر بھی تھا۔ایسے حالات میں تب
آپ کی خالہ نے اپنے بچے کی طرح پرورش کی۔
ٓٓآپ اپنی دن بھر کی کارگزاری اورمعمولات ہمیشہ ڈائری میں لکھا کرتے تھے۔اصول اور وقت کے حد درجہ پابند تھے۔ عموماً آج ہمارے سماج میں گھر کا کوئی فرد مسجد جائے۔اس دوران کوئی جان پہچان کے لوگ آکر پوچھے کہ کہاں ہیں اور کب آئیں گے۔تو جواب دیا جاتا ہے مسجد گئے ہیں اور بس ابھی پانچ دس منٹ میں آئینگے۔یعنی یقینی طور پرجلد آنے والے ہیں۔ اور اگر کہیں بازار یا دوسری جگہ جائے اور آنے کے تعلق سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں بازار یا کسی جگہ باہر گئے ہیں اور پتہ نہیں کب تک آئینگے۔اِس کے بر عکس والد صاحب کے معمولات سے ہم آگا ہ تھے جب کوئی صاحب آپ کی غیر موجودگی میں آتے اور آپ مسجد گئے ہوں تو آپ کے آنے کا یقینی وقت نہیں بتا سکتے کہ کب تک آسکتے ہیں کیونکہ نماز کے بعد تلاوت میں مشغولیت کا معمول اور کبھی دینی کاموں کی مصروفیت میں کب تک رہینگے کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا،البتہ بازار یا کہیں بتا کر چلے جائیں تو اندازہ سے بتا سکتے تھے کہ کب تک آسکتے ہیں جب تک انتظار کے لئے کہا جاسکتا تھا۔
آپ ضلع پریشد میں ایک اہم عہدہ پر فائز تھے جہاں رشوتوں کا بازار گرم تھا لیکن آپ رشوت کے با لکل خلاف تھے کبھی کبھی جو آپ کو رشوت کی پیش کش کرتا تو آپ غصہ سے بھڑک جاتے اور کافی ڈانٹ پِلادیتے جس سے سامنے والا بہت شرمندہ ہوتا۔ اکثر کہا کرتے کہ میرے ہم منصب رشوت کے بل بوتے پر عمارتیں بنالیں اور گاڑیوں میں پھر رہے ہیں لیکن اہم دولت علم کی دولت ہوتی ہے۔میں تمہارے لئے مال ودولت جمع نہیں کرونگا تم خود علم حاصل کرو تو سب کچھ حاصل ہوجائیگا۔ اور فی الحقیقت اُنہوں نے ہماری تعلیم کے لئے روپیہ پیسہ پانی کی طرح بہایا۔کافی قربانیاں دیں،ہمارے اپنے شہر میں تعلیم کی حالت سے مطمئن نہ تھے تو دوسرے شہروں میں تعلیم کا انتظام کیا کہیں بورڈنگ ہاسٹل کےانتظام سے کبھی کہیں وقتیہ طور پر رہائش پذیر ہوئے،مالیگاوں، امبہ جوگائی, پپلا, مومن آباد، اکل کوا،بیڑ وغیرہ میں ہم نے تعلیم کے غرض سے رہائش اختیار کی۔ جہاں جہاں تعلیم کے لئے کوشش کرنی تھی۔کوششیں کیں۔اور الحمدللہ اِن قربانیوں کے نتیجے میں اللہ نے ہمیں بہت کچھ نوازا بھی ہے۔

واقعہ۔ 

ایک مرتبہ ہم اپنے والد صاحب کے ساتھ سے سفر پر روانہ ہورہے تھے۔ہمیں شہر عثمان آباد سے مالیگاوں جانا تھا۔اُس وقت ہم مالیگاوں ہاسٹل میں پڑھا کرتے تھے۔جیسے ہی آٹو سے اُترکربس اسٹیشن کے  داخلی دروازہ کے قریب پہنچے ہماری مطلوبہ بس داخلی دروازہ سے نکل چکی تھی۔جیسے ہی والد صاحب نے بس کو دیکھا،فورا دوڑتے ہوئے بس کے قریب پہنچے۔اِشارہ کیا لیکن ڈرائیور کی توجہ بس کو موڑتے وقت بس کو کنٹرول کرنے میں تھی۔والد صاحب نے اپنی رفتار تیز کردی اور بالکل بس کے قریب پہنچ کر دروازہ پیٹا اور متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔شائد میں نے پہلی اور آخری مرتبہ کو آپ کو دوڑتے دیکھا۔ ورنہ ہمیشہ باوقار انداز میں سکون کے ساتھ ہر معاملہ کو اپنایا کرتے تھے۔بہرحال بس رُک گئی اور ہم تمام اپنے بھائیوں بہنوں سمیت بس میں سوار ہوگئے۔سوار ہونے کے بعد ہم نے سکون کا سانس لیا۔ایک مرحلہ تو گزر گیا اب سفر بھی کافی لمبا تھا۔اچھی طرح بیٹھنے کے بعد حسبِ معمول نصیحت کی اور وقت کی اہمیت بتلای۔کہ دیکھو اور کچھ وقت ہم ضائع کردیتے, ایک منٹ کی بھی تاخیر ہوجاتی تو ہمارا سفر رہ جاتا۔اور ہم اپنے وقت پر پہنچ بھی نہیں پاتے،اِس لئے زندگی میں ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔اب چونکہ تجربہ اور مشاہدہ کے ساتھ بھی یہ نصیحت تھی اسلئے ذہن میں واقعی وقت کی اہمیت کا اندازہ ہوچکا تھا۔
آپ ہمیشہ سے دور اندیش رہے ہیں۔آنے والے وقت کے لئے تیار رہنااور موجودہ وقت میں ہمیشہ عمل میں رہنا یہ آپ کی عادتوں میں شمار تھا۔اورمیری عادت ہمیشہ سے کھوجنے کی ہے کسی بھی چیز کو کھوجنا اور کوئی نئی چیز سامنے آئے تو اُسکی حقیقت کو جاننا یہ میری عادت رہی ہے.۔بہرحال میں حسبِ معمول الماری کی تلاشی لے رہا تھا۔قدیم کتابیں،یونانی ادویات، آفس کے کاغذات وغیرہ،لیکن میں نے نوٹ کیا کہ یہ سفید قسم کا سوتی کپڑا کس لئے رکھا گیا جو کہ کئی سالو ں سے رکھا گیا ہے اور ابھی تک استعمال میں نہیں آیا۔مجھے تجسس ہوا۔ اِس تعلق سے میں نے اپنے والد سے دریافت کیا اور وہ الماری چونکہ ہمارے والد صاحب ہی زیادہ استعمال کیا کرتے تھے۔میں نے پوچھا کئی دِنو ں سے یہ سفید کپڑا آپکی الماری میں رکھا ہو ا ہے ابھی تک استعمال  نہیں ہوا. کیا وجہ ہے کس لئے یہ کپڑا رکھا گیا ہے؟ تو آپ نے کہا کہ یہ میرا کفن کا کپڑا ہے۔مجھے آپکے جواب سے کوئی حیرت بھی نہیں ہوئی کیونکہ میں جانتا تھا کہ آپ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کی فکر زیادہ کرتے تھے۔میں نے کہا۔اچھا. اور پھر اپنے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں یہ بات شائد مضحکہ خیز لگے اور شائد کچھ کو ہنسی بھی آئے۔ کہ کفن کا کپڑا بھی رکھنے کی کوئی چیز ہوتی ہے۔ لیکن جو دور اندیش ہوتے ہیں شائد اُن کی خوبیاں اُن ہی تک محدود ہوتی ہے عام لوگوں کو بتابھی دے تو کیا سمجھ پائے یہ کہنا مشکل ہے۔میرے خیال میں شائد کفن کو دیکھ کر اپنی موت کی یاد تازہ ہوجائے اور عمل کی فکر زیادہ ہو،جیسے
تسبیح کو دیکھ کر پھر سے اللہ کی یاد اورذکر میں مشغول ہوجائے۔
اکثر بارہاں ایسا ہوتا تھا کہ رات میں کافی دیر تک تلاوت کیا کرتے تھے۔اُن کے معمولات میں چھبیس سورتیں اور منزل وغیرہ تلاوت کا معمول تھا۔جب کافی دیر ہوجاتی تو والدہ ٹوک دیا کرتی تھی کہ رات بہت ہوگئی ہے اب سوجاو۔تو کہتے کہ کیا سوئے ؟ قبر میں جاکر آرام ہی تو کرنا ہے۔خیر ایسی باتوں کے ہم عادی بھی ہوچکے تھے۔

والد صاحب کی خامیاں۔

آپ جہاں خوبیوں کے مالک تھے وہی کچھ چیزیں ایسی بھی تھی کہ مجھے اُس سے اتفاق نہیں تھا۔آپ میں حد درجہ نرمی تھی اتنی نرمی!،لوگوں سے نرمی اور اخلاق سے پیش آنا اور بات ہے لیکن دُشمنوں سے درگزر کرنا یہ تو ہمت کاموں میں سے ہے۔میں سوچتا کہ آپ کا عہدہ بھی اچھا خاصا ہے۔جان پہچان اور اثرورسوخ بھی ہے لوگ آپ کی قدر اور ادب بھی کافی کرتے ہیں تو جب کسی کو منہ توڑجواب دینے کا وقت ہوتواپنے اثر ورسوخ کو استعمال میں لاکر اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں تو اینٹ ہی سے جواب دیں دے۔۔۔۔ویسے تو آپ کبھی غصہ نہ ہوتے لیکن جب آپ غصہ بھی ہوتے تو چہرہ سُرخ ہوجاتاغصہ کے تعلق سے یاد آیا۔  ایکمرتبہ ہوا یوں کہ بچپن میں،میں عصر کے وقت مسجد کے پاس ریت میں کھیل رہا تھا میرے ساتھ کئی اور بچے بھی تھے جوکھیل میں مشغول تھے۔اتنے میں اچانک محلہ ہی کے شیخ سر تھے وہ جب آئے تو اُنھوں نے آو دیکھا نہ تاو۔تمام بچوں کو مار بھگایا لیکن میں اپنے کھیل میں اتنا مصروف تھا مجھے پتہ ہی نہیں کہ کوئی بلا بھی پیچھے کھڑی ہے جو کھیلنے سے روک رہی ہے میں اُن کے ہاتھ لگ گیا۔خوف کہ مارے میرا پیشاب نکل گیا۔ اُف میں تو ڈر کے فورا گھر گیا اور چھپ گیا۔شام کا وقت ہوچلا تھا اب تو ہمارے پپا کے گھر آنے کا بھی وقت تھا۔شام میں جب والد گھر  آئے اور امی نے والد صاحب کے سامنے پوری بات رکھی . مجھے ڈر تھا کہ اب میری خیر نہیں،جیسے میں نے بہت بڑا جرم کیا ہو۔میں کافی سہما ہوا تھا کیونکہ کہ ہماری غلطی پر سرزنش کرنا اور ڈانٹ کرنا یہ تو ہونا ہی تھا۔لیکن ہائے ری قسمت ہوا کچھ بالکل اُلٹا۔والد صاحب غصہ ہوئے پر مجھ پر نہیں, شیخ سر پر۔ میرے بارے میں پوچھا کہ میں کہا ں ہوں۔میں تو دروازہ کے پیچھے سہما سا کھڑا تھا۔مجھے سامنے لایا گیا۔تب میرا ہاتھ پکڑا اور اُن کے گھر لیجانے لگے پر رات کا وقت ہوچلا تھا مناسب نہیں تھااس لیےگھرپر ہی روکاگیا۔ اگلی صبح مجھےاپنے ساتھ لے گئے اورشیخ صاحب کوگھر کے باہر ہی سے آواز دی اور شیخ صاحب کو باہر آنے کو کہا۔لیکن کہا ں؟... نہ وہ آرہے اور یہاں انتظار! کب تک؟۔گھر میں فورا داخل ہوئے اور مارنا شروع کردیا۔شیخ صاحب کو صفائی کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ بہرحال چونکہ یہ معاملہ بالکل خلافِ معمول پیش آیا۔ورنہ درگزر کرنا تو عادتوں میں شمار تھا۔لیکن شائد صرف اپنے معاملات کی حد تک وہ برداشت کرجاتے۔
معاشرے میں کافی دبدبہ اور رعب تھا جس کی وجہ سے عام لوگوں کو بات کرنے میں بھی پہلے ہی ذہن تیار کرنا ہوتا ۔لیکن جو لوگ آپ سے قریبی ہوتے۔اور قلبی تعلقات ہوتے وہ کافی خوشگوار موڈ میں اپنی باتو ں کو رکھتے اور مشورہ حاصل کرلیتے۔
آپ کا انتقال پُرملال بروز جمعہ  .17.فروری. 2020. کو ہوا۔انتقال کے بعد چہرہ پر ایک قسم کا اطمینان تھا۔آپکی مسکراہٹ سے اندازہ ہوتا تھا جیسے بہت دِنوں بعد کسی سے ملاقات کی خواہش کےپورا ہونے کا وقت آگیا ہو۔مسکراتا چہرہ اورموتی جیسے چمکتے دانت یہ آپکا آخری دیدار تھا۔

اُن کا اُٹھنا نہیں ہے کسی حشر سے کم            
گھر کی دیوار ہے باپ کا سایہ      
      
اللہ سے دُعا ہیکہ اللہ آپ کو غریق رحمت کرے۔جنت میں بلند درجات عطا فرمائے۔آمین۔اپنی دُعاوں میں انھیں ہمیشہ یاد رکھیں۔ارے ہاں نام تو بتانا ہی بھول گیا،آپکا نام ہاشمی عبدالروف ہے،ویسے پورے شہر میں ہاشمی صاحب کے نام  سے مشہور ہیں تو دُعاوں میں ضرور یاد 
رکھیں۔
  رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی........ تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
تو قارئین آپ کو یہ آرٹیکل کیسا لگا۔کمنٹس کر کے ضرور بتانا۔آپ کے بھی والدین سی کچھ جڑی باتیں ہوں تو مجھے ای میل کیجئے۔جیسا کہ آ پ اپنے والدین کے لئے پھولوں کی طرح ہو .ہم آپ تمام کے والدین کے واقعات کے پھولوں کو اِس بلاگ میں گلدستہ کی طرح پیش کرینگے۔ لائک کیجئے شیئر کیجئے کچھ رائے مشورہ ہو تو ضرور بتلانا۔میں جواب دینے کی پوری کوشش کرونگا۔

Comments

Popular posts from this blog

دوستی اور محبت کس سے کریں؟Who do you make friends with

Don't Worry About Liars And Jealous People/ جھوٹے لوگوں اور حسد کرنے والوں،پیٹھ پیچھے بُرائی کرنے والوں سے پریشان نہ ہو۔