غیر تصدیق شدہ/بے سند طلاق اور نکاح کے تذلیل کا فتنہ (اردو میں)
امت کو متاثر کرنے والا مسئلہ
غیر تصدیق شده سند/بغیر سرٹیفکیٹ/بے سند طلاق اور نکاح کے تذلیل کا فتنہ
🔹 موضوع:
آج کل لوگ جذباتی طور پر طلاق دے دیتے ہیں — واٹس ایپ پر، غصے میں، یا بغیر کسی قاضی کے سامنے۔
نہ کوئی شرعی سند ہوتی ہے، نہ عدت کا تعین، نہ بیوی کی عزت کا خیال۔
یہ عمل نہ شرعاً درست ہے، نہ سماجی طور پر قابلِ قبول۔
---
📘 قرآن کا پیغام:
> "جب تم عورتوں کو طلاق دو، تو ان کی عدت کے دوران انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو…"
> (سورۃ الطلاق، آیت 1)
📌 یہ آیت طلاق کے شرعی ادب اور وقت کی حفاظت کا حکم دیتی ہے۔
---
📗 حدیث:
> "تین چیزیں ایسی ہیں جن کا مذاق بھی حقیقت ہے: نکاح، طلاق، اور رجوع"
> (سنن ابو داود)
📌 اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ طلاق کا لفظ مذاق میں بھی دیا جائے تو شرعاً نافذ ہو جاتا ہے —
اس لیے ہر لفظ، ہر وقت، اور ہر نیت کا شرعی حساب ہوتا ہے۔
---
⚠️ متاثر کن پہلو:
- واٹس ایپ یا ایس ایم ایس پر طلاق دینا — بغیر سند، بغیر گواہ، بغیر قاضی
- بیوی کو بغیر عدت چھوڑ دینا — نہ عدت کا علم، نہ شرعی حفاظت
- طلاق کے بعد بیوی کی عزت اور مستقبل کا تحفظ نہیں ہوتا
- لوگ طلاق کے بعد بیوی کو بدنام کرتے ہیں، جبکہ شرعاً طلاق کے بعد بھی عزت واجب ہے
📌 قضاءت کا کردار:
- ہر طلاق کی شرعی سند لکھنا ضروری ہے
- عدت کا شرعی تعین قاضی کے ذریعے ہونا چاہیے
- بیوی کی عزت اور مستقبل کی رہنمائی دی جائے
- طلاق کے لفظ کا غلط استعمال روکا جائے — ہر لفظ کا شرعی حساب ہو
---
📌 From. Govt Deputy Qazi Mufti Hashmi Syed Abdul Majeed Numani
📞 #7386006694
---

Comments
Post a Comment