نکاح کے بعد نفقہ اور مکان کا شرعی حق(in Urdu)

 امت کو متاثر کرنے والا مسئلہ


نکاح کے بعد نفقہ اور مکان کا شرعی حق



🔹 موضوع:

اکثر مرد نکاح کے بعد اپنی شرعی ذمہ داریوں سے کتراتے ہیں — نہ بیوی کا نفقہ دیتے ہیں، نہ اس کے لیے شرعی طور پر مکان کا انتظام کرتے ہیں۔  

یہ صرف غفلت نہیں بلکہ ظلم ہے۔ اسلام میں نفقہ، لباس اور مکان بیوی کا حق ہے — اور اس کی ادائیگی میں کوتاہی کرنا کبیرہ گناہ ہے۔

---


📘 قرآن کا پیغام:

> "مرد عورتوں پر قوام ہیں... اور اپنے مال سے خرچ کرتے ہیں"  

> (سورۃ النساء، آیت 34)

📌 یہ آیت مرد کی ذمہ داری کو واضح کرتی ہے — کہ وہ بیوی کا خرچ اٹھائے، اس کی حفاظت کرے، اور اس کے لیے مکان اور سکون کا انتظام کرے۔

---

📗 حدیث:


> "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو"  

> (ترمذی شریف)


📌 بہترین مرد وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، اس کا خرچ اٹھائے، اور اس کی عزت کرے۔


---


⚠️ متاثر کن پہلو:

- نکاح کے بعد بیوی کو والدین کے گھر چھوڑ دینا  

- بیوی کا نفقہ، لباس، اور مکان نہ دینا  

- بیوی کو "رخصتی نہیں ہوئی" کہہ کر اس کے شرعی حقوق سے محروم کرنا  

- بیوی کو صرف طلاق یا جھگڑے کے وقت یاد کرنا — باقی وقت غفلت

---

📌 قضاءت کا کردار:

- ہر نکاح کے بعد نفقہ اور مکان کی شرعی وضاحت کی جائے  

- نکاح نامہ میں نفقہ اور مکان کا ذکر ہو  

- بیوی کے حقوق کی تعلیم اور تحفظ دیا جائے  

- مرد کو اس کی ذمہ داریوں کا شرعی طور پر آگاہ کیا جائے

--


📌 From. Govt Deputy Qazi Mufti Hashmi Syed Abdul Majeed Numani  

📞 #7386006694


Comments

Popular posts from this blog

کچھ یادوں کی ڈائری سے والد کی

دوستی اور محبت کس سے کریں؟Who do you make friends with

Don't Worry About Liars And Jealous People/ جھوٹے لوگوں اور حسد کرنے والوں،پیٹھ پیچھے بُرائی کرنے والوں سے پریشان نہ ہو۔