Posts

Showing posts from August, 2020

مشورہ کی اہمیت/The importance of advice

Image
 مشورہ کی اہمیت۔ اللہ تعالی نے جس طرح تمام لوگوں کی صورتوں رنگوں اور لسانیات،میں فرق پیدا کیا،ٹھیک اِسی طرح لوگوں کی ذہنی صلاحیت،سوچ اور سمجھ اور قوت ِ فیصلہ کی صلاحیت بھی اللہ تعالی نے مختلف رکھی۔اور اِسی لئے جب انسان کو جب کوئی اہم فیصلہ لینا ہو تو مختلف سوچ اور سمجھ کے مجموعہ سے انسان مشورہ لیکر قدم آگے بڑھاتا ہے تاکہ وہ کامیابی کو حاصل کرلے۔یہ چیز اتنی اہم ہیکہ خود نبی کریم ﷺ کو قرآن مجید میں اِس بات کیطرف راہنمائی کی گئی کہ مختلف اُمور اور معاملات میں اپنے قریبی اصحاب سے مشورہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔جیسا کہ قرآ ن میں ارشاد فرمایا گیا۔ وشاوِرھُم فِی الامر فاذا عَزَمتَ فتوکل علی اللہ۔ان اللہ یحبّ المتوکّلِین۔ یعنی اپنے معاملات اور اُمور میں ان سے مشورہ لیا کرو۔ اور جب فیصلہ کرو تو خدا پر بھروسہ کرو۔ بیشک اللہ تعالی بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔  Add caption سورہ شوری میں مومنین کی صفت بیان کی گئی۔ واَمرُھُم شوریٰ بینھم ۔اُن کے معاملات آپس میں مشورہ سے طئے ہوتے ہیں۔ مشورہ کا حکم. حضرت ضحاک ؒ سے نقل کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ مشورہ کیا کریں۔ چ...

پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک/Kindness to the neighbor

Image
ٓ     پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک  آج کل کا دور جیسے نفسا نفسی کا دور ہے۔ہر شخص گویا اپنی دُنیا میں مگن ہے۔ لیکن چاہے اِنسان خود کتنا ہی اپنی مصروفیات میں ہوں۔اُسے اپنے پڑوسی سے ضرور کچھ نہ کچھ,کبھی نہ کبھی سابقہ پڑتا ہے۔  ٹھیک اِسلام نے جیسے معاشرت میں خود اور اپنے گھر والوں اور رشتے داروں کے حقوق بیان فرمائے ہیں اُسکے بعد پڑوسیوں کے بھی حقوق بھی بیان کئے ہیں۔ بہت سے لوگ اُن حقوق کویا تو  نہیں جانتے ہیں  اور جو لوگ اُن حقوق کو جانتے ہیں افسوس کے اُس پر عمل نہیں کرتے۔کیونکہ ہمارے معاشرے میں  پڑوسیوں کونظر انداز کردینا,جیسی چیز عام ہوگئی ہے تو اس چیز کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ لیکن پڑوسیوں کو نظر انداز کردینا بھی کتنا ہماری دُنیا اور آخرت تباہ کرسکتی ہے ہم اِسے اِسلامی نقطۂ نظریہ سے دیکھیں گے۔ پڑوسی کسے کہتے ہیں ؟ سب سے پہلے یہ کہ ہمارے پڑوسی میں سب سے مقدم کون ہیں۔(۱) پہلے تو یہ کہ وہ ہمارے رشتہ دار ہو اور پڑوسی ہو تو اِن کا حق سب سے پہلے ہے(۲) اُس کے بعد جو ہمارے گھر کے آس پاس۔پھر دُکان یا فیکٹری  کے آ س پاس ہو (۳) تیسرے نمبر پر وہ لوگ جو جن کے سات...

دوستی اور محبت کس سے کریں؟Who do you make friends with

Image
دوستی اور محبت کس سے کریں؟  دوست کسے کہتے ہیں۔ جس طرح معاشرے میں کئی رشتے ہوتے ہیں۔ماں باپ کا رشتہ،بھائی بہن کا رشتہ،وغیرہ۔اِسی طرح ایک اہم رشتہ دوست کا رشتہ ہوتاہے۔ کہتے ہیں حقیقی غریب وہ ہے کہ جس کا کوئی دوست نہ ہو۔ کیونکہ مال دولت سے ہر چیز حاصل تو نہیں ہوتی، لیکن سچا دوست آپ کی ہمت ہوتا ہے، آپ کو صحیح راستہ بتاتا ہے۔بُرے وقت میں کام آتا ہے۔آپ کی خامیوں پر آپ کو ٹوکتا ہے جس سے آپ کی شخصیت اور نکھرتی ہے۔وہ خیالات،جذبات،باتیں جو آپ اپنے بھائی بہن یا ماں باپ سے نہیں بانٹ سکتے ایسے وقت آپ اپنے دوست کو وہ باتیں` بتا کر اپنی خوشی اور غم میں شامل کرتے ہیں۔جس سے آپ کے دِل کو تسلی ملتی ہے۔آپ ذہنی مایوسی سے بچ سکتے ہیں۔آپ کے جذبات کو سمجھ کر آپ کادوست اُن جذبات پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے۔  دوستی اور محبت کس سے کریں؟ چونکہ انسان اکثر اُسی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے جو اُس کا ہم خیال ہو۔ذہنی سطح ایک جیسی ہوتی ہے تو ایک دوسرے کو سمجھ کر اپنے خیالات اور جذبات کو ایک دوسرے کیساتھ بانٹتے ہیں۔ چاہے اُن میں بُرے خیالات ہو یا اچھے خیالات ہو۔اور لوگ بھی ایک دوسرے کے دوستوں کو دیکھ کر کسی شخص کو پ...

اعتدال اور میانہ روی اختیار کیجئے

Image
اعتدال اور میانہ روی اختیار کیجئے       اِسلام نے ہمیشہ کسی بھی معاملہ میں لوگوں کو اعتدال کا راستہ اپنانے کا حکم دیا ہے۔چاہے ہو عبادات کا معاملہ ہو یا سخاوت اور خرچ کرنے کا معاملہ ہو،اخلاقی اعتبار سے،روحانی اعتبار سے،یا معاشرتی اعتبار سے ہو۔ غرض یہ کہ زندگی کے تمام شعبہ اورمعاملات میں اعتدال کے ساتھ اپنے معاملات کو حل کرنے کا حکم فرمایا۔قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا۔ وکذلک جعلناکم اُمّۃ وسَطاََ ۔ یعنی ہم نے تم کو ایک اُمّتِ وسط بنایا،درمیانی اُمت سے بنایا۔یہ ایک خصوصیت ہے کہ تمام اُمور ومعاملات میں اعتدال کی صفت کی خوبی کو ظاہر کیا۔ ہر حال میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ۔ حضرتِ حذیفہ سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا۔مال داری کی حالت میں بھی اعتدال اچھی چیز ہے۔ اور فقر وتنگدستی کی حالت میں اعتدال اچھی چیز ہے اور عبادت میں بھی اعتدال اچھی ہے۔ ۔۔مال ودولت میں اعتدال اور میانہ روی رکھنا ضروری ہے۔نہ ایسا ہو کہ مال ودولت میں اتنا مشغول رہے کہ خدا سے غافل ہوجائے۔اپنی آخرت کو بھول جائے۔اور نہ خرچ کرنے میں اتنااِسراف اور فضول خرچی کرے کہ بعد میں خود تنگدست ہوجائے۔اور...

رشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک /صلہ رحمی

Image
رشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک   اسلام معاشرتی اعتبار سے ہر مسلمان کو اِس بات کا حکم دیتا ہیکہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی،اچھا سلوک، احسان اور بہتر برتاو کریں۔یہاں تک فرمایا کہ اگر ہمارے معاشرے میں رشتہ دار مفلس،محتاج ہو کمانے کی طاقت نہ رکھتے ہوں،مدد کے محتاج ہوتو جہاں تک ہوسکے اُن کی مالی مدد بھی کریں۔سورہ نحل میں اللہ تعالی نے اِرشاد فرمایا۔انّ اللہ یامر با لعدل والاحسان وایتا ء ذی القربیٰ وینھیٰ عنِ الفَحشاءِ ولمنکروالبغی،یعظکم لعلکم تذکّرون۔یعنی اللہ تعالی ہر ایک کے ساتھ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ اور قرابت داروں کو دیتے رہنا،اور بے حیائی اور بُرے کاموں اور سرکشی سے روکتا ہے۔ اللہ تعالی تم کو نصیحت کرتا ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ صلہ رحمی کیا ہے؟رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک۔ صلہ رحمی یہ ہیکہ رشتوں کو جوڑے رکھے رشتہ داروں اور قریبی اعزہ کے ساتھ نیکی کا برتاو اور حسنِ سلوک کرے اُن کے ساتھ بہتر تعلقات بنائے رکھے اُن کی ہمدردی اور خیر خواہی کے جذات ہمارے اندر ہوں۔اور اصل صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ اُن کے برتاو کے طرح ہی ہم بھی برتاو کریں۔اُنھوں نے تحفہ بھ...

بڑا سوچئے بڑا کرئیے۔

Image
بڑا سوچئے بڑا کرئیے۔ ۔۔۔ ہر انسان کے اپنے کچھ مقاصد ہوتے ہیں جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔کسی اِنسان کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے اور کوئی بڑا سوچتا ہے۔اگر کامیاب انسان بننا ہے توانسان کو اپنے مقاصدمیں بلند سوچ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ایک چھوٹی سی مثال لیں لے۔اگر ایک شخص کا ذہن ہے کہ اُسے کُرسی اُٹھا کر لیجانا ہے تو وہ آسانی کے ساتھ کرسی کو اُس کے اصلی مقام تک پہنچا دیگا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوجائیگا.اور ایک دوسرا شخص ہے  اُس کا ذہن سوچتا ہے کہ اُسے اسی طرح پچاس کرسیا ں اُٹھا کر وہی مقام تک پہنچانا ہے۔اور وہ جہد ِمسلسل کرے۔محنت کرے،تو وہ کامیاب ہوگا اگر بالفرض مان لیں کہ وہ پچاس کرسیاں اُس کے اصلی مقام تک نہ بھی پہنچائے تو کم سے کم بیس،پچیس کرسیا ں تو پہنچا ہی لیگا۔اوروہ اپنے مقصد کو پورا کرنے میں نا کام ہوگیا۔تو اب یہ بتلائے کہ ایک کرسی لیکر جانے والے کا کام جو کہ کامیاب انسان ہے وہ اچھا ہے یا وہ جو بیس پچیس کرسیا ں لیکر جانے والا جو کہ ناکام ہے،۔۔اِسی طرح انسان کا ذہن کام کرتا ہے جب آپ اپنے ذہن کو بڑے کام کا حکم دوگے تو ذہن اُس کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنے کی کوشش کریگا کچھ آئیڈیا بتا...

خوش رہنے کے بہترین اصول حصہ پنچم (۵)

Image
(5)خوش رہنے کے بہترین اصول  حصہ پنچم ۔۔۔جب بندہ اللہ کو چھوڑکر صرف لوگوں ہی سے اُمیدیں لگاتا ہے تو اللہ تعالی اُسے لوگوں کے حوالے کردیتا ہے۔اس لئے اگر چاہتے ہو کہ تکلیف دور ہو تو مخلوق سے اُمیدیں لگانا چھوڑ دو۔صرف اللہ سے ہی اُمید رکھو۔تاکہ تمہاری تکلیف دور ہو۔اور  اللہ ہی سے فریاد کرو۔ ۔۔۔جب آپ کے پاس ایسا معاملہ پیش آئے جس کے کرنے سے لوگ ناراض ہوجائے اور اللہ تعالی خوش ہوجائے۔تو فورا بلا جھجک اللہ کو راضی کرنے والا کام کرجاو،چاہے لوگ کتنے ہی ناراض ہوجائے،جب آپ ایسا کروگے تو اللہ تعالی اس بات کو اپنے ذمہ لے لیتا ہے کہ وہ لوگوں کے دِلوں کو آپ کے لئے راضی کرادے۔اور جب آپ کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کے کرنے سے لوگ خوش ہوجائے اور اللہ تعالی ناراض ہوجائے تو رُک جائیے اُس کام کو ہرگز نہ کرئیے کہ آپ لوگوں کو راضی کرنے کے لئے اللہ کو ناخوش کرے۔اگر آپ نے ایسا کیا تو اللہ تعالی ایسے بندے کو لوگوں کے حوالے کردیتا ہے یہاں تک کہ ایسے حالات آجاتے ہیں۔ کہ اللہ کو ناراض کر کے جن لوگوں کو خوش کیا تھا وہی لوگ اُس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ خوش رہنے کے بہترین اصو ل ۔۔۔اگر آپ بے چینی،بد انتظام...

خوش رہنے کے بہترین اصول حصہ چہارم(۴)

Image
خوش رہنے کے بہترین اصول  حصہ چہارم(۴) ۔ہر تنقید کو اپنے خلاف نہ سمجھو۔کیونکہ تعریف سے زیادہ ہمیں اِصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۔۔غصہ کی حالت میں کبھی فیصلہ نہ کرو۔ورنہ بعد میں ندامت اور پچھتاوا ہوگا۔ کیونکہ غصہ کی حالت میں اِنسان غوروفکر سے کام نہیں لیتا۔ ۔۔لوگوں سے عزت کی خواہش نہ کرو،جب تک تم خود لوگو ں کی عزت نہ کرو۔اپنی ناکامی پر دوسروں کو دوش نہ دو،بلکہ خود کی اِصلاح کی فکر کرو۔ ۔۔۔اِنسان کی نفسانی خواہشات کی کوئی حد نہیں،ایک خواہش پوری ہونے کے بعد دوسری خواہش جنم لیتی ہے۔اس لئے خواہشات کے پیچھے پڑوگے تو کبھی اطمینان حاصل نہ ہوگا۔معاملات ضائع ہونگے۔ذہن منتشر ہوگا۔سکون حاصل نہ ہوگا۔ ۔۔۔چیونٹی کا کھانا گھر تک نہیں پہنچتا۔شیر کی خوراک کچھار میں نہیں ملتی،پرندوں کی روزی ان کے گھونسلے میں خودبخود نہیں آتی۔انہیں غذا کے لئے جدوجہد اور محنت کرنا پڑتی ہے۔اِن ہی کی طرح محنت اور طلب سے کوئی چیز حاصل کی جاتی ہے۔ ۔۔۔نیک بخت اور خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جب وہ حاضر نہیں ہوتے تو لوگ اُن کا ذکرِخیر کرتے ہیں۔اور دِل سے دُعا دیتے ہیں،جس سے لوگ پیار کرتے ہیں۔اور بد بخت ہوتے ہیں وہ لوگ جب وہ غائب ہوتے ...

کچھ یادوں کی ڈائری سے والد کی

Image
کچھ یادوں کی ڈائری سے والد کی   والد صاحب کے بچپن کادورجس درد بھرے ماحول میں گزرا،دعا ہیکہ کسی کا بچپن اُسکی معصومیت نہ چھین لے،آپ بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے۔پولس ایکشن جیسے حالات میں آپ کو جہاں باہری حالات سے تحفظ کو بھی خطرہ تھا،زمینداری زیادہ ہونے کی وجہ سے خود اپنوں کی سازشوں کا ڈر بھی تھا۔ایسے حالات میں تب آپ کی خالہ نے اپنے بچے کی طرح پرورش کی۔ ٓٓآپ اپنی دن بھر کی کارگزاری اورمعمولات ہمیشہ ڈائری میں لکھا کرتے تھے۔اصول اور وقت کے حد درجہ پابند تھے۔ عموماً آج ہمارے سماج میں گھر کا کوئی فرد مسجد جائے۔اس دوران کوئی جان پہچان کے لوگ آکر پوچھے کہ کہاں ہیں اور کب آئیں گے۔تو جواب دیا جاتا ہے مسجد گئے ہیں اور بس ابھی پانچ دس منٹ میں آئینگے۔یعنی یقینی طور پرجلد آنے والے ہیں۔ اور اگر کہیں بازار یا دوسری جگہ جائے اور آنے کے تعلق سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں بازار یا کسی جگہ باہر گئے ہیں اور پتہ نہیں کب تک آئینگے۔اِس کے بر عکس والد صاحب کے معمولات سے ہم آگا ہ تھے جب کوئی صاحب آپ کی غیر موجودگی میں آتے اور آپ مسجد گئے ہوں تو آپ کے آنے کا یقینی وقت نہیں بتا سکتے کہ کب تک آسکتے ہیں کیونکہ نم...

دوسروں کی نقل نہ اُتاریں۔

Image
دوسروں کی نقل نہ اُتاریں۔ دوسروں کی نقل کرکے آپ اپنی شخصیت کو گم نہ کرو۔بہت سے لوگ اس بیماری کا شکار ہیں،ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی آواز،بول چال، حرکات وسکنات،بات چیت،لباس، میں دوسرو ں کی ایسی نقل کرے کہ بالکل اُن جیسے نظر آئے۔ یہ سب چیزیں،تکبر،جلن،حسد،تکلف یا کسی سے مرعوب ہونے سے جنم لیتی ہے۔اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر آج تک کسی اِنسان کو ہر چیز میں یکساں نہیں بنایا۔لوگوں کی شکل وصورت میں اختلاف ہے۔کہیں لوگوں کے رنگ ونسل میں اختلاف ہے کہیں زبان اور اُن کے لہجوں میں اختلاف ہے۔اسی طریقے سے اخلاق اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بھی لوگ یکساں نہیں ہیں۔ انسان کی خوبیاں الگ الگ ہوتی ہیں۔۔ مزاج اور پسند بھی الگ الگ ہوتی ہے۔۔ ہر خوبی  اور ہر مزاج کی اہمیت ہوتی ہے۔۔۔ اور سب کے ملنے سے خوبیوں کا سماج بنتا ہے۔۔ وہی سماج اچھا لگتا ہے، اور وہی کام کا ہوتا ہے۔۔۔ پھول بھی تو الگ الگ ہوتے ہیں۔۔ اور ان سب کے ملنے سے چمن بنتا ہے۔۔ پھر وہی چمن زار ہوتا ہے، اور دلوں کا بہار بنتا ہے۔۔۔  آپ کے پاس جو چیز اللہ نے قدرتی طور پر دی ہے وہ دوسروں میں نہیں ہے اور نہ کوئی اُس نعمت کو آپ سے چھی...